نئی دہلی، 22؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکزی سرکارنے آئی ٹی ایکٹ کا استعمال کرتے ہوئے ایک بڑاقدم اٹھایاہے۔مودی سرکار نے ملک کے سبھی کمپیوٹرپراپنی نظررکھنے کیلئے تیاری کرلی ہے۔دراصل گذشتہ روزوزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک حکم کے مطابق 10 ایجنسیوں کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی کمپیوٹر کے ڈیٹا کو چیک کرسکتی ہیں۔جانچ ایجنسیاں اب کسی بھی کمپیوٹرمیں ڈیٹا کی جانچ کرسکیں گی۔یعنی اب سرکارسبھی کمپیوٹرکے ڈیٹا کھنگال سکتی ہے۔20دسمبرکے اس حکم میں کہاگیاہے کہ سیکورٹی اورخفیہ ایجنسیاں انٹرسیپشن،نگرانی اورڈیکرپشن کے مقصدسے کسی بھی کمپیوٹرکے ڈیٹاکی جانچ کرسکتی ہیں۔وزارت داخلہ نے یہ حکم انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000کے سیکشن 69(1)کے تحت جاری کیاہے۔
ان ایجنسیوں میں انٹلی جنس بیور ، نارکوٹکس کنٹرول بیورو ، ای ڈی ،سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز،ڈائریکٹ آف رینیو انٹلی جنس، سینٹرل بیوروآف انویسٹی گیشن، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی، کابینہ سکریٹریٹ(را)،ڈائریکٹوریٹ آف سگنل انٹلی جنس ،کمشنرآف پولیس،دہلی کا نام شامل ہے۔سرکارکے اس حکم میں یہ بھی کہاگیاہے کہ جانچ کے وقت سیکوریٹی ایجنسیوں کوپوراتعاون نہ دینے پرسات سال کی سزا اورجرمانہ بھی ہوسکتاہے۔